Thursday, September 17, 2026
راکب مختار

راکب مختار

Rakib Mukhtar
پیدائش: 22 Jan 1987
راکب مختار — مختصر تعارف

راکب مختار اردو کے معاصر شاعر ہیں۔ دستیاب ادبی معلومات کے مطابق ان کا اصل نام عابد حسین ہے اور وہ شورکوٹ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ادبی حوالوں میں ان کی پیدائش کا سال 1987 درج ہے۔

ان کی شاعری میں محبت، اداسی، انسانی جذبات، زندگی کے تجربات اور صوفیانہ فکر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی غزلوں میں سادہ مگر گہری زبان، داخلی کیفیت اور فکری انداز خاص طور پر محسوس ہوتا ہے۔ ان کی معروف غزلوں میں "حکمِ مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" اور "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے" شامل ہیں۔

راکب مختار مشاعروں میں بھی کلام پیش کرتے رہے ہیں اور 2024 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے صوفیانہ مشاعرے میں بھی ان کی شرکت اور شاعری ریکارڈ ہوئی۔

تخلص: راکبؔ
اصل نام: عابد حسین
پیدائش: 1987
جائے پیدائش: شورکوٹ، پنجاب، پاکستان
صنف: غزل، اردو شاعری
29 کل شاعری
3 رباعی
11 شعر
15 غزل
شعر

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے

ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
2 14 Sep 2026
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے
مکمل پڑھیں
4 14 Sep 2026
شعر

پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں

پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں

پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے
2 14 Sep 2026
غزل

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
وہ سامنے تھا مگر چار سو دکھائی دیا
مکمل پڑھیں
3 14 Sep 2026
شعر

وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا

وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا

خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
3 14 Sep 2026
شعر

پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب

پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب

دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا
3 14 Sep 2026
شعر

نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی

نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی

نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
4 14 Sep 2026
شعر

حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے

حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے

زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
4 14 Sep 2026
رباعی

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
وہ شخص رات اپنے سرہانے علم رکھے
مکمل پڑھیں
4 14 Sep 2026
غزل

ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے

ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
مکمل پڑھیں
2 14 Sep 2026
غزل

درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے

درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
خدا نے فخر سے پوچھا حسین سا کوئی ہے
مکمل پڑھیں
3 14 Sep 2026
غزل

سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو

سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
دعوے سے کہہ رہا ہوں کوئ بے وفا نہ ہو
مکمل پڑھیں
3 14 Sep 2026
رباعی

کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر

کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
باطل کے منہ پر ایسا تماچہ رسید کر
مکمل پڑھیں
1 14 Sep 2026
غزل

ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے

ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
مکمل پڑھیں
5 14 Sep 2026
شعر

اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو

اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو

لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
0 14 Sep 2026
شعر

دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں

دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں

روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
3 14 Sep 2026
شعر

شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی

شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی

خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
1 14 Sep 2026
غزل

یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو

یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
لہو بن جائے گی منہ میں زباں آہستہ آہستہ
مکمل پڑھیں
3 14 Sep 2026
شعر

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں

تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
3 14 Sep 2026
شعر

دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے

دل سا مصرع ہے مرے ذہن میں کہنے دیجے

"یا حسین آپ کے انکار پہ پیار آتا ہے"
2 14 Sep 2026
غزل

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض کا علاج ہے
مکمل پڑھیں
4 14 Sep 2026
رباعی

اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط

اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
مکمل پڑھیں
2 14 Sep 2026
غزل

تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا

تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
شاعری تو میرے گھر کا آب و دانہ بن گیا
مکمل پڑھیں
5 14 Sep 2026
غزل

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں
مکمل پڑھیں
4 14 Sep 2026
غزل

سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی

سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
دلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی
مکمل پڑھیں
5 13 Sep 2026
غزل

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی
مکمل پڑھیں
4 13 Sep 2026
غزل

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں
مکمل پڑھیں
6 13 Sep 2026
غزل

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
مکمل پڑھیں
3 13 Sep 2026
غزل

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
ہاتھ چھڑوا کے بھلا تجھ سے کدھر جانا ہے
مکمل پڑھیں
6 13 Sep 2026